• تقطیع
  • اصلاح
  • اشاعت
  • منتخب
  • مضامین
  • بلاگ
  • رجسٹر
  • داخلہ
  1. عروض
  2. بلاگ
11 فروری 2026
غزل
avatar غلام رسول نور
@GR
ایسے فنا ہُوا ہوں تِرے اِنتظار میں
ایسے فنا ہُوا ہوں تِرے اِنتظار میں
آتا نہیں ہوں اَب تو کِسی بھی شُمار میں
شوقِ شُمار ہے تو یہ سانسیں شُمار کر
زاہد پَھنسا ہُوا ہے فَریبِ شُمار میں
مِعراج پا رَہا ہوں شَرابِ اَلَسْت سے
سَجدے میں گر گیا ہوں عُروجِ خُمار میں
جب فرق مِٹ گیا ہے، مُحب و حَبیب کا
پھر قَیس کیوں کھڑا ہے، مِیانِ قَطار میں
بولے مَجاز والے عُروسِ فقیر پر
لَذّت شَراب میں ہے نہ بوس و کِنار میں
عہدِ شَباب کیا تھا، جَفاؤں کا سِلسلہ
رَحمت کی آس پھر بھی، ہے میری پُکار میں
کیوں عَرش ہِل رہا ہے، زَمیں پُر ملال ہے
آہیں تَڑب رہی ہیں کِسی بے قَرار میں
ہر چیز لَوٹتی ہے حَقیقی اَساس کو
پَرواز کیا کروں مَیں خُودی کے غُبار میں
پائے نہ کوئی گُل جو، رُخِ اُوْ کی روشنی
مُرجھا ہی جائے گا وہ نَسیمِ بہار میں
حُزْنِ فِراقِ اُوْ کی طَوالت ہے زِندگی
مَر کے مَکاں ہے پایا، خُدا کے دِیار میں
آیا جو وَجْد میں تو، قَلندر نے یہ کہا
تُجھ کو خُدا ملے گا خُدائی کے پیار میں

1
11
معلومات
© 2021 - عروض 2.1 - رابطہ - مالی تعاون - رازداری - اے پی آئی - سورس کوڈ - اردو ویب - فیسبک - @syed_asghar
© 2021 - عروض 2.1.1 - رابطہ - مالی تعاون - رازداری - اے پی آئی - سورس کوڈ - اردو ویب - فیسبک - @syed_asghar