| ایسے فنا ہُوا ہوں تِرے اِنتظار میں |
| آتا نہیں ہوں اَب تو کِسی بھی شُمار میں |
| شوقِ شُمار ہے تو یہ سانسیں شُمار کر |
| زاہد پَھنسا ہُوا ہے فَریبِ شُمار میں |
| مِعراج پا رَہا ہوں شَرابِ اَلَسْت سے |
| سَجدے میں گر گیا ہوں عُروجِ خُمار میں |
| جب فرق مِٹ گیا ہے، مُحب و حَبیب کا |
| پھر قَیس کیوں کھڑا ہے، مِیانِ قَطار میں |
| بولے مَجاز والے عُروسِ فقیر پر |
| لَذّت شَراب میں ہے نہ بوس و کِنار میں |
| عہدِ شَباب کیا تھا، جَفاؤں کا سِلسلہ |
| رَحمت کی آس پھر بھی، ہے میری پُکار میں |
| کیوں عَرش ہِل رہا ہے، زَمیں پُر ملال ہے |
| آہیں تَڑب رہی ہیں کِسی بے قَرار میں |
| ہر چیز لَوٹتی ہے حَقیقی اَساس کو |
| پَرواز کیا کروں مَیں خُودی کے غُبار میں |
| پائے نہ کوئی گُل جو، رُخِ اُوْ کی روشنی |
| مُرجھا ہی جائے گا وہ نَسیمِ بہار میں |
| حُزْنِ فِراقِ اُوْ کی طَوالت ہے زِندگی |
| مَر کے مَکاں ہے پایا، خُدا کے دِیار میں |
| آیا جو وَجْد میں تو، قَلندر نے یہ کہا |
| تُجھ کو خُدا ملے گا خُدائی کے پیار میں |
معلومات