صدائے وقت کو مولا تو معتبر کر دے
کہ جس کے سامنے باطل بھی سر کو خم کردے
نہ جانے اور وہ کتنے خدا بنا ڈالیں
خدا گروں کے بھی کچھ اختیار کم کردے
لگائی جائے نہ ہونٹوں پہ ایسی پابندی
کہ سازِ نطق کو محرومِ زیر و بم کردے
تری مشیت کے بھیدوں سے میں ڈرتا ہوں
مرے خلوص میں پیدا نہ پیچ و خم کردے
نگاہ میری اس حد بلند ہو اے خدا
جو کم ہو تیرہ شبی روشنی بھی کم کردے
دیا ہے میرے بزرگوں نے درس یہ شاعر
نظر ہو ایسی تیری کہ دیدہ نم کردے

7