| بعد مدت ہم نے پھر آنسو بہائے رات بھر |
| وہ جو بچھڑے تھے کبھی، پھر یاد آۓ رات بھر |
| کوئی سوۓ بسترِ گل پر بڑے آرام سے |
| پیٹ کی خاطر کوئی کرتب دکھاۓ رات بھر |
| اس کے جانے کا، بہت صدمہ نہ تھا ہم کو کوئی |
| ہاں مگر اتنا ہوا ہم سو نہ پاۓ رات بھر |
| جو کبھی لکھی تھی ان پر اور سنائی بھی نہیں |
| روتے روتے وہ غزل ہم گنگناۓ رات بھر |
| ساتھ ان کا زندگی ہے، جانتے ہیں، پر ہمیں |
| دے کے خوفِ ہجر دائم آز ماۓ رات بھر |
| ہم ذرا سا چاند سے محوِ سخن کیا ہو گئے |
| دیکھ کر تارے رہے آنکھیں چڑھائے رات بھر |
معلومات