بعد مدت ہم نے پھر آنسو بہائے رات بھر
وہ جو بچھڑے تھے کبھی، پھر یاد آۓ رات بھر
کوئی سوۓ بسترِ گل پر بڑے آرام سے
پیٹ کی خاطر کوئی کرتب دکھاۓ رات بھر
اس کے جانے کا، بہت صدمہ نہ تھا ہم کو کوئی
ہاں مگر اتنا ہوا ہم سو نہ پاۓ رات بھر
جو کبھی لکھی تھی ان پر اور سنائی بھی نہیں
روتے روتے وہ غزل ہم گنگناۓ رات بھر
ساتھ ان کا زندگی ہے، جانتے ہیں، پر ہمیں
دے کے خوفِ ہجر دائم آز ماۓ رات بھر
ہم ذرا سا چاند سے محوِ سخن کیا ہو گئے
دیکھ کر تارے رہے آنکھیں چڑھائے رات بھر

0
2
14
اچھا کہا ہے

شکریہ سرجی سلامت رہیں

0