تغافل کا بادل چھٹے گا یقینا
وہ جوروجفا سے ہٹے گا یقینا
محبت ہوئی ہے تجھے تازہ تازہ
سبق عشق کے تو رٹے گا یقینا
چھڑی جنگ پھر سے جنون و خرد میں
دو ٹکڑوں میں دل اب بٹے گا یقینا
اگر تو ہٹے گا نہ جورو جفا سے
تری چاہ سے دل ہٹے گا یقینا
محبت ہوئی ہے تجھے شیشہ گر سے
تو دل کرچیوں سے کٹے گا یقینا
وہ گھر جس میں رشتوں کی عزت نہیں ہے
وہ حصوں میں آخر بٹے گا یقینا
شرابی کبابی چنا ہم نے لیڈر
وہ ملکی اساسے غٹے گا یقینا
کئے یاد اقبال کے شعر میں نے
کبھی کوئی میرے رٹے گا یقینا
یونہی گرد سے قصر اٹھتے نہیں ہیں
تو خود گرد سے بھی اٹے گا یقینا
نہ مایوس تو رنج کے غار میں ہو
دہانے سے پتھر ہٹے گا ہقینا
کھرا جس کا ایمان و کردار ہوگا
اصولوں پہ اپنے ڈٹے گا یقینا
چلو گے نہ قرآن کے راستے پر
تو فرقوں میں مذہب بٹے گا یقینا
ہوئی چشمِ نم سے ندامت کی بارش
سحابِ الم اب چھٹے گا یقینا

13