دل ترے دل سے یوں ناکام نکل آتا ہے
سوچ کا سوچ سے ابہام نکل آتا ہے
ہاتھ میں کوئی عجب چیز چھپاتا ہے وہ
اور پھر درد مرے نام نکل آتا ہے
دل کو منظر سا کوئی دِکھتا ہے، منظر میں نجات!
دو قدم چلنے پہ یہ خام نکل آتا ہے
ابھی دن کی بھی تھکن جاتی نہیں اندر سے
ایک پیوند سرِ شام نکل آتا ہے
میں کبھی ٹِک نہ سکا خوابوں کی دنیا میں زیبؔ
یہاں ہر روز نیا دام نکل آتا ہے

0
3