| لے آۓ ہو جب توڑ کے گل کیا بولوں |
| ہاں اتنا کہوں گا نہیں ایسا کرتے |
| اظہار محبت ہے ضروری مانا |
| یر پھول نہیں شاخ سے توڑا کرتے |
| معلوم کیا کرتے ہیں پہلے اس کا |
| جس سمت سفر کا ہیں ارادہ کرتے |
| آسان نہیں اتنا یہ رستہ دیکھو |
| گہرا ہے بہت عشق سمندر دیکھو |
| میں تم سے نہیں کہتا یاں چل کر دیکھو |
| آنکھوں سے مری کرب کے منظر دیکھو |
| میں تم کو بتاتا ہوں ہے کیا ہجر کا دکھ |
| ہوتی ہے سنو وصل کی لذت کیسی |
| کس قدر ہیں یاں لوگ ستمگر دیکھو |
| منزل کی تمنا میں ہیں گرتے پڑتے وہ آبلہ پا کتنے مسافر دیکھو |
| دم توڑ چکی ہے کہیں خواہش دل کی |
| لرزیدہ بدن آنکھیں ہیں پتھر دیکھو |
| اب ایک نظر جانب گلشن دیکھو |
| کیسے ہے محبت سے مزین دیکھو |
| کس شوق سے لپٹی ہے وہ دیکھو جا کر شبنم کو وہاں گھاس کا بوسہ لیتے |
| پتے جو بجاتے ہیں کبھی ساز سنو |
| آپس میں پرندوں کی شرارت دیکھو |
| پھولوں سےشب و روز ملاقات کریں دن تتلیاں اور رات کو جگنو دیکھو |
| کھیتوں میں چمکتے ہیں ستارے یا پھر بلہا ہے کہ بھنورے یہاں رقصاں دیکھو |
| شرمندہ ہوں اس بات پہ انسان ہی کیوں انسانوں سے اس قدر ہیں نفرت کرتے |
| حالانکہ چمن والے مبشر بزمی آپس میں ہیں بے لوث محبت کرتے |
معلومات