اپنے سارے بھرم رہ گئے
ان کے لطف و کرم رہ گئے
کیا کرائم تھے کم رہ گئے
عشق میں باقی غم رہ گئے
آپ دیکھے ہماری طرف
"آئنہ بن کے ہم رہ گئے"
سامنے کر کے خود چھپ گیا
ہم ہی بس ہم ہی ہم رہ گئے
آپ کے ناز اٹھاتے رہے
ہم نشانِ ستم رہ گئے
عشق کے سب رسن جل گئے
اب تو بس پیچ و خم رہ گئے
سر قلم کر دیا ہے عدو
ہم اٹھائے قلم رہ گئے
عشق والا خدا اب کہاں
پتھروں کے صنم رہ گئے
دل کے رستے سے گذرا پیا
پیچھے نقشِ قدم رہ گئے
چل دِیا دل سے دل کا مکیں
دل میں رنج و الم رہ گئے
دارِ الفت پہ تنہا ذکیؔ
ہم خدا کی قسم رہ گئے

0
2