آدمی اک دوسرے کا فخر بھی قوت بھی ہے
اسکے دل میں نوربھی ہے، اور کہیں ظلمت بھی ہے
بن کے رحمت یہ کبھی دکھ کا مداوا کر گیا
اور کبھی نفرت کی صورت سخت اک آفت بھی ہے
غم کی مرہم ہے کبھی یہ اپنے بھائی کے لیے
اور کبھی اس کی زباں ہی باعثِ وحشت بھی ہے
، رب سے رشتہ جوڑ لے تو بندہ بن جاتا ہے یہ
اور کبھی غفلت میں ڈوبا، بندۂ غفلت بھی ہے
اپنے کردار و عمل سے خود سنورتا ہے عتیقؔ
آدمی ہی آدمی کی عزّت و ذلت بھی ہے

0
3