| خوش ہوں کہ رائیگاں مرے منتر نہیں گئے |
| بادِ صبا کے لب تمہیں چھُو کر نہیں گئے |
| خوش بخت! جس کے بخت میں لکھا گیا تمہیں |
| بچے تمہارے شکر ہے اُس پر نہیں گئے |
| اب کیوں دِلا سخاوتِ یاراں سے ہے گلہ |
| مشکیزگانِ چشم ترے بھر نہیں گئے؟ |
| دہلیزِ فکر تک سمٹ آئی تھی کائنات |
| ہم ہی خیالِ یار سے باہر نہیں گئے |
| میں نے بدلتے چہروں کو دیکھا ہے بارہا |
| جب تک تمام ہو مجھے ازبر نہیں گئے |
| تب تک ہم ایک دوجے پہ مرتے تھے ، جب تلک |
| ہم ایک دوسرے کے لیے مر نہیں گئے |
| شب بھر مری اداسی میں ہوتے رہے مخل |
| آوارگانِ شہر قمرؔ گھر نہیں گئے |
| قمرآسیؔ |
معلومات