راستوں میں کوئی دیوار نہ ہو
زندگی ایسی بھی دشوار نہ ہو
ہے تمنا یہ بڑھاپے میں اب
دل محبت کا طلب گار نہ ہو
ہوں بہاریں نہ خزاں کے موسم
شوخیٔ رنگ یہ گلزار نہ ہو
میکشی ہو نہ کوئی جام و صبو
زلف ساقی کی بھی خمدار نہ ہو
دیکھتا عشق نہیں عمر مگر
مہرباں کوچۂ دلدار نہ ہو
یار کو آئے مسیحائی اگر
شہر دل میں کوئی بیمار نہ ہو
اس سفیدی نے رکھا میرا بھرم
سر پہ ورنہ مرے دستار نہ ہو
سوختہ جاں ہیں سبھی اہل وفا
جیسے بستی میں خریدار نہ ہو
خواب شاہد نے سجائے ہیں یوں
باغ میں آنکھوں کے جو خار نہ ہو

0
4