یہ سلسلہ ہے بہتریں، سِکھائے ہم کوعلمِ دِیں
یہ ذہنی آزمائش ہے، فِدا ہیں جِس پہ ناظریں
سوال ہیں جواب ہیں، کیا خوب پیچ و تاب ہیں
مُقابلے کی ہے فَضا، فَضا بڑی ہی دِل نشیں
کیا شان کا نصاب ہے، سجا ہر اک ہی باب ہے
اُنھی کے سب ہیں تذکرے، منائیں جن کی بارہویں
دُرُود سے بھی تر زباں، ہے سیلِ اَشک بھی رَواں
سماں ہے کس قدر حسیں، صد آفریں صد آفریں
دِلُوں میں اِک اُمنگ ہے، عجب ہی اُس کا رنگ ہے
چلیں سُوئے مدینہ ہم، سُکوں مِلے ہمیں وَہیں
مدینے سے جُدا نہ ہُوں، کبھی بھی یا خُدا نہ ہُوں
سدا ہی اُن کے در پہ کاش، جُھکی رہے مِری جبیں
پئیں گے جام عشق کے، مِٹیں گے داغ فِسق کے
بعید کیا جو خواب میں، مِری وہ آئیں مہ جبیں
تُو زیرکؔ اُن کی رَہ پہ چَل، اُنھی کے عشق میں مَچَل
کرم کریں گے تم پہ وہ، کریم اُن سا تو نہیں

0
3