| یاد تیری ساتھ میرے کب نہیں ہے |
| کون کہتا ہے کہ تو اقرب نہیں ہے |
| ناز نخرا وہ تمہارا اب نہیں ہے |
| بانکپن وہ اب نہیں ہے چھب نہیں ہے |
| کب نہیں سانسوں میں خوشبو ہے تمہاری |
| کب تمہارا نام زیرِ لب نہیں ہے |
| حضرتِ آدم کو جو بخشا گیا ہے |
| وہ فرشتوں کوملا منصب نہیں ہے |
| کیسی بن خالق کی مخلوقات ہیں سب |
| کیسی دنیا ہے کہ جس کا رب نہیں ہے |
| ہو قناعت آشنا بندہ تو سمجھے |
| کچھ تو میرے پاس ہے گر سب نہیں ہے |
| لاکھوں پیروکار ہیں اس کے جہاں میں |
| عشق مانا گو کوئی مذہب نہیں ہے |
| بے وفا کہتے ہیں ان کو سب مگر کیوں |
| دل یہ کہتا ہے کہ یوں اغلب نہیں ہے |
| واسطہ اپنا تو تیری ذات سے ہے |
| ہم کو دنیا سے کوئی مطلب نہیں ہے |
| بلبلا پانی کا اک انسان ہے بس |
| کون جانے کب ہے جانے کب نہیں ہے |
| زندگی ہے اک حقیقت در حقیقت |
| شعبدہ کوئی نہیں کرتب نہیں ہے |
| ہو رہی ہے زندگی اپنی بسر ہی |
| ہم کو جینے کا اگرچہ ڈھب نہیں ہے |
| میری سوچوں میں نہیں کوئی تسلسل |
| میری باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے |
| ہر کوئی مجبور ہے فطرت سے اپنی |
| ڈنک جو مارے نہیں عقرب نہیں ہے |
| ہم کو ہے امید قادر جس سحر کی |
| یہ سحر وہ ہے کہ جس کی شب نہیں ہے |
معلومات