درِ دل سال خوردہ چوبی ہے
علم طوفان کو بخوبی ہے
پہلے ہوتا تھا اس جگہ صحرا
میری کشتی جہاں پہ ڈوبی ہے
درمیاں شرق و غرب سی دوری
میں شمالی ہوں ، وہ جنوبی ہے
وہی آتا ہے بار بار نظر
جس نظارے سے آنکھ اُوبی ہے
وجہِ شہرت ہے شاعرہ کا حسن
شعر کہنا اضافی خوبی ہے
عادتیں ہیں تمام شاہانہ
اور قسمت میں خاک روبی ہے
کچی بستی میں جھونپڑی میری
نمبر اس کے محل کا ٹو-بی ہے
قمرآسیؔ

0