کچھ یادیں
دھندلی دھندلی سی
کچھ باتیں
الجھی الجھی سی
کچھ قصے
درد کے ماروں کے
کچھ ڈوبتے
ہوئے ستاروں کے
کچھ رسمیں
اس نے توڑی ہیں
کچھ قسمیں
ہم بھی بھول گئے
کچھ باقی
اس کے وعدے تھے
کچھ کھوکھلے
میرے ارادے تھے
میں تنہا
اکثر رہتا تھا
میری سوچ میں
گر تم مانو تو
اک آس کا
دریا بہتا تھا
وہ نظمیں
لکھا کرتی تھی
میں غزلیں
لکھا کرتا تھا
وہ باتیں
دل میں رکھتی تھی
میں دل کی
باتیں کرتا تھا
پھر رات
اندھیری آئی جب
وہ تنہا
مجھ کو چھوڑ چلی
معصوم سا
دل یہ توڑ چلی
خوشیوں کا
رستہ موڑ گئی
تنہا
مجھ کو چھوڑ گئی
شاہد اویس سومرو

114