| جگ میں رکھتے ہیں حرص و آز سبھی |
| گر چہ لگتے ہیں بے نیاز سبھی |
| زاہد و سرفراز ہوں یا خدا |
| ہیں مقدم انہیں مفاد سبھی |
| عشق رسوائی ہے جہاں میں مگر |
| پہلو میں رکھتے ہیں ایاز سبھی |
| انکی مسکان ہے یوں سحر بھری |
| دام میں اٹکے ہیں صیاد سبھی |
| میں اکیلا نہیں اداس یہاں |
| در پہ بیٹھے ہیں بے مراد سبھی |
| جنکو اپنی بھی کچھ نہیں ہے خبر |
| ہیں سمیٹے ہوئے وہ راز سبھی |
| بھول جاؤں گا میں جہاں کو مگر |
| لفظ میرے رہیں گے یاد سبھی |
| زندہ تاریخ میں حسین رہے |
| مر گئے شمر و بن زیاد سبھی |
| سجدہ شاہد ! فقط امام کا ہے |
| ورنہ پڑھتے ہیں ہم نماز سبھی |
معلومات