| بھولے بسرے سبھی وعدوں کا اعادہ کر کے |
| دیکھ لیتے ہیں محبت کو زیادہ کر کے |
| مخمل و اطلس و کمخواب سے اعضاء والے |
| ہم بھی ٹھہریں گے تجھے اپنا لبادہ کر کے |
| کہہ دیا ہے تو ملیں گے تمہیں روزِ محشر |
| ہم کوئی تم ہیں ؟ مکر جائیں گے وعدہ کر کے؟ |
| ورنہ رہنے دیں جناب آپ کو زحمت ہو گی |
| ہم سے ملنا تو جبیں اپنی کشادہ کر کے |
| خود بخود دید کے اسباب مہیا ہوں گے |
| آپ دیکھیں تو ذرا دل سے ارادہ کر کے |
| اب دل و جان و جگر لمسِ قدم کو ترسیں |
| کردیا ہم کو فراموش کیوں جادہ کر کے |
| اسپِ دل پر تھی نظر راہ نما کی اور پھر |
| وہ ہوا ہو گیا رہ رو کو پیادہ کر کے |
| قمرآسیؔ |
معلومات