| مرے دل میں کوئی الجھن نہیں ہے |
| بس اتنا ہے کہ اب مسکن نہیں ہے |
| ترے بن زندگی میں رنگ کیا ہو |
| کوئی خوشبو، کوئی بچپن نہیں ہے |
| تجھے دیکھا تو دل کو چین آیا |
| وگرنہ دل میں کوئی فن نہیں ہے |
| وہ پہلے جیسی چاہت بھی نہیں اب |
| مگر تجھ سے مجھے الجھن نہیں ہے |
| ترے کوچے سے گزروں تو لگے یوں |
| کہ دنیا میں کوئی مدفن نہیں ہے |
| ترے جانے سے یہ محسوس ہوتا |
| کہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے |
| کبھی جس میں تری خوشبو بسی تھی |
| وہی گھر اب مرا آنگن نہیں ہے |
| تری یادوں کا موسم ہے ابھی تک |
| مگر آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے |
| ترے کوچے کی جانب دیکھتا ہوں |
| مگر قسمت میں اب درشن نہیں ہے |
| وہی دل ہے، وہی دھڑکن ہے لیکن |
| تری قربت کا اب درپن نہیں ہے |
| ترے وعدے کی خوشبو ہے ابھی تک |
| مگر وعدوں میں وہ بچپن نہیں ہے |
| (مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی) |
معلومات