جو ہوا خون تازہ پھولوں کا
جگ نے دیکھا تماشا پھولوں کا
سوگ چہرے پہ اشک پلکوں پر
غم زدہ سا سراپا پھولوں کا
حرمتوں پر ہے ہاتھ حاکم کا
ہے بدن بے لبادہ پھولوں کا
راج دہشت کا ہے کہ پھولوں نے
خود پڑھا ہے جنازہ پھولوں کا
باغبان ہے سوالی گل چیں سے
دکھ ہے کس کو زیادہ پھولوں کا
بات قسمت کی ہے کفن ملنا
بڑھ کے اس پر مہکنا پھولوں کا
لب ہنسی کو ترستے ہیں گل کے
دیکھ کہتا ہے غازہ پھولوں کا
بھینچ لیں گے بہار بانہوں میں
اس برس ہے ارادہ پھولوں کا
آ رہیں ہم خوشی سے سب شاہد
سادہ سا ہے تقاضا پھولوں کا

0
3