| تم پہ اب بھی اگر یقیں ہوتا |
| ایک سنگین جرمِ دیں ہوتا |
| خوب اچھا ہے وہ مرا نہیں ہے |
| ہوتا تو اہلِ آستیں ہوتا |
| شہر ہا شہر گھومتا رہتا |
| میں اگر حاکمِ زمیں ہوتا |
| تجھ سے نکلا ہوں تو خرد پائی |
| ورنہ تو میں یہیں کہیں ہوتا! |
| یہ فقط اختراعِ دشت ہے زیبؔ |
| ضبط سے حوصلہ نہیں ہوتا |
معلومات