| کرتے ہیں رشک دشت پہ ارض و سما حسین |
| جس پر بقائے دیں کا لکھے ضابطہ حسین |
| ترتیب وار گرتے ہیں آنکھوں سے میری اشک |
| گریہ گزار کہتے ہوئے کربلا ، حسین |
| صحرا میں کس نے پھول کھلائے ہیں اس طرح؟ |
| "بس آپ ہی دکھاتے ہیں یہ معجزہ حسین" |
| کرتا ہے میرے سامنے جب کوئی ذکرِ شام |
| آتا مری زبان پہ ہے آہ! یا حسین |
| محور ہیں کائنات کا بے شک یہ پانچ نام |
| سرکار ، بوتراب ، حسن ، فاطمہ ، حسین |
| بحرِ یزیدیت میں ہیں گِرداب جا بجا |
| دینِ خدا کے بیڑے کے ہیں ناخدا حسین |
| قلبِ حزیں سے رب کی رضا جان کر کیا |
| تقدیر نے قبول ترا فیصلہ حسین |
| اک جیسے سات آدمی اوروں کے ہوتے ہیں |
| تھا کوئی ، ہے ، نہ ہوگا کوئی دوسرا حسین |
| پہچان لینا حشر میں آسیؔ مریض کو |
| بیمارِ کربلا کا تجھے واسطہ حسین |
| قمرآسیؔ |
معلومات