| ہے رب سے یہی التجا میری بہنا |
| سلامت رہے تو سدا میری بہنا |
| رکھے تجھ کو مولا یوں اپنے اماں میں |
| کہ آئے نہ تجھ پر بلا میری بہنا |
| ہمیشہ رہے تو یوں ہی کرّ و فر میں |
| خدا کی ہو تجھ پر عطا میری بہنا |
| یہ نادان دل میرا تجھ سے تھا لڑتا |
| نہ رہنا تو مجھ سے خفا میری بہنا |
| رلانا نہ مجھ کو میں بھائی ہوں تیرا |
| نہ ہونا کبھی تو جدا میری بہنا |
| یہ کیسے کہوں تجھ سے کتنی ہے الفت |
| نہیں اس کی ہے انتہا میری بہنا |
| نہ آئے کبھی غم تِری زندگی میں |
| ہے رہبر کی رب سے دعا میری بہنا |
معلومات