ایک بے نام کسی عشق کی پرچھائی سے
سہم جاتا ہوں میں اس شورشِ تنہائی سے
کون سمجھے گا مرا حرفِ زباں سو چپ ہوں
خوف آتا ہے بھرے شہر میں رسوائی سے
کم سے کم اس نے لگائی مری جاں کی قیمت
دام قاتل کے تھے بہتر مرے سودائی سے
خواب میں خواب کا ہوتا ہے سفر جاگتے میں
دیکھنا تم کبھی اس آنکھ کی پروائی سے
سحر ہوتی تھی کبھی شام مری ہوتی تھی
صرف اس شخص کی بس ایک ہی انگڑائی سے
مستقل دیکھتا ہوں میں بھی زلیخا کی طرح
اپنے یوسف کو یوں کھوئی ہوئی بینائی سے
کس نے دیکھی ہے مرے شعر کی جل تھل ساگر
کون ڈوبا ہے مرے لفظ کی گہرائی سے

0
4