| تمام عمر سفر ہی میں صبح و شام رہے |
| تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے |
| ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا |
| میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے |
| امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے |
| سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے |
| ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں |
| تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے |
| سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر |
| کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے |
معلومات