| یہ دردِ پیہم لہو کے جیسے رگوں میں اپنی رواں دواں ہے |
| نہیں ٹھہرتا ہے اک جگہ پر کبھی یہاں تو کبھی وہاں ہے |
| سمجھ سکے یا نہ کوئی سمجھے ہر ایک غم کی الگ زباں ہے |
| یہ کہہ رہا ہے ہر ایک آنسو جو دل پہ گزری وہی بیاں ہے |
| مقیم ہوں میں کہ جس جگہ پر مقام شاید یہ لامکاں ہے |
| قدم کے نیچے زمیں ہے میرے نہ سر کے اوپر ہی آسماں ہے |
| بلندیوں سے میں باغِ رضواں کی اس طرح سے گرا زمیں پر |
| ہٹے ہوۓ سب ہیں جوڑ اپنے ہر اک شکستہ کہ استخواں ہے |
| جواب خط کا اے نامہ بر تو ہے لے کر آیا تو جلد لیکن |
| بیاں خبر کر ٹھہر ٹھہر کر کہ دل ذرا سا یہ ناتواں ہے |
| یقیں، یقیں ہی نہیں ہے کامل گماں، گماں بھی ہے نا مکمل |
| مرا گماں ہی مرا یقیں ہے، مرا یقیں ہی مرا گماں ہے |
| ملا بھلے دل ملا نہ مجھ سے مزاج ان کا تو مجھ سے ملتا |
| مجھے جو ناخوش انہیں وہ بھاۓ مجھے جو بھاۓ انہیں گراں ہے |
| شکستہ دل کی ہے اپنی کشتی خفا بھی ہم سے کہ ناخدا ہے |
| اتر گۓ ہیں کہ جس میں اب ہم یہ بحرِ غم بھی تو بیکراں ہے |
| بہت اگرچہ کی جستجو پر کھلا نہیں کیا ہے رازِ ہستی |
| یوں کھایا ہم نے فریبِ ہستی نظر نظر میں دھواں دھواں ہے |
معلومات