| زمانے کو دکھانا ہے کوئی اپنی نشانی دے |
| مرے لفظوں کو خوشبو اور لہجے کو روانی دے |
| مری ہمت کو وہ تیزی، مرے جذبوں کو حدت دے |
| پہاڑوں کو جو پگھلا دے، مجھے وہ زندگانی دے |
| لہو بن کر رگوں میں دوڑ جائے جو تڑپ بن کر |
| مرے مردہ ارادوں کو وہ بھرپور اب جوانی دے |
| سفر کی دھول میں چہرہ مرا دھندلا نہ ہو جائے |
| عطش کو کر قبول اور پیاس کو تسکینِ پانی دے |
| نہ ہو جس کی کوئی منزل ہمیں وہ راستہ کیوں دے؟ |
| سفر کو اک تڑپ بخشے، جنوں کو جاودانی دے |
| بہت دن ہو گئے روئے ہوئے اپنی خطاؤں پر |
| مری چشمِ ندامت کو ہنر وہ نوحہ خوانی دے |
| تِرے در کا سوالی ہے نہ جانے کب سے یہ اخترؔ |
| یہ تیرا نام لیوا ہے، اسے عظمت پرانی دے |
معلومات