آنکھوں کی راہ سے دل میں جو اتر جائے ہے
غم کے ماحول کو خوش رنگ جو کر جائے ہے
دل کو مرغوب ہے میرے وہ تبسّم مقصود
ایک پل جو لبِ نازک پہ بکھر جائے ہے

0
4