بیٹی نور ناصر کے نام
ظلم کی دنیا کا میں طائر ہوں
بے خبر سب سے گو بظاہر ہوں
کون لاتا ہے عشق پر ایماں
میں اکیلی ہی اس میں کافر ہوں
حوصلہ مجھ میں ہے پہاڑوں کا
ظلم سہنے میں حرفِ آخر ہوں
اور کتنا عذاب دو گے تم
دشت ہے پیاسا ، میں مسافر ہوں
نا مکمل ہے کام دیپک کا
آج جلنے کو لو میں حاضر ہوں
بابا کہتے ہیں روشنی مجھ کو
ظلمتوں کی میں نور ناصر ہوں
ہوں مسیحا میں درد کا شاہد
زخم سینے میں اپنے ماہر ہوں

0
4