| ساقی کی نظر دیکھ کے حیراں نہیں ہوتا |
| اب جام کوئی دل پہ درخشاں نہیں ہوتا |
| میں اپنے زمانے سے بہت پیچھے چلا ہوں |
| سو مجھ سے کسی خواب کا ساماں نہیں ہوتا |
| دو لفظ کہیں اور کریں ترکِ تعلق |
| اے یار یہ اتنا بھی تو آساں نہیں ہوتا |
| کچھ زخم زمانے کے بھی ہوتے ہیں مقدر |
| ہر بار محبت میں ہی نقصاں نہیں ہوتا |
| خط جتنے بھی آئے ہیں محبت میں تمہاری |
| قاصد بھی مرے حال سے انجاں نہیں ہوتا |
| کل بزمِ ملائک میں یہی عرض کیا تھا |
| انساں پہ مقرر کوئی درباں نہیں ہوتا |
| حاصل ہوئے ہیں مجھ کو زمانے سے کئی غم |
| اب کوئی بھی غم باعثِ طوفاں نہیں ہوتا |
| تم مجھ کو سناؤ تو وہی قتل کے قصے |
| اب خون کی خبروں سے پریشاں نہیں ہوتا |
| ساگر جو بھی آیا ہے مرے دل میں مسافر |
| اک پل سے زیادہ کا وہ مہماں نہیں ہوتا |
معلومات