خفا یہ وقت نہ مجھ سے کبھی ہوا ہوتا
یقیں ہے کوئی مجھ سا کہاں ہوا ہوتا
نمک چھڑکتا رہا زخم پر مر ا ناصح
وہ کاش مجھ پہ کبھی مائلِ عطا ہوتا
نہ ہوتیں سازشیں تیری اے منصفِ دوراں
قدم قدم پہ نہ مسکن کوئی جلا ہوتا
بڑا ہی تلخ ہوا تجربہ سفر میں مجھے
نہ کھلتی آنکھ تو رستے میں لٹ گیا ہوتا
یہ سبزہ زار یہ دریا نجوم و ماہ و فلک
اگر یہ خلق نہ ہوتی تو بس خدا ہوتا
اندھیرے سر نہ اٹھاتے کبھی مری زمیں پر
جو اس دیار میں روشن کوئی دیا ہوتا

0
2