روز اشکوں کی رہائی لکھ دی
دوست کیسی یہ جدائی لکھ دی
ہجر کیا تو نے لکھا قسمت میں
جگ کی ہر چیز پرائی لکھ دی
ہوں مقدر کا سمندر لیکن
پھر بھی ہر در کی گدائی لکھ دی
تو غنی کیسا ہے مرشد پیارے
سونپ کے درد خدائی لکھ دی
کیا عطا تو نے محل کا بستر
ایک پھر آبلہ پائی لکھ دی
ڈوبتی شام پکاروں کس کو
دے کے آواز دہائی لکھ دی
کاٹ کے پر مرے تو نے مالک
تا فلک میری رسائی لکھ دی
طعنہ ، دشنام ، جہاں کی تہمت
میرے بختوں میں برائی لکھ دی
آج شاہد کے گناہوں پر بھی
شیخ نے ہرزہ سرائی لکھ دی

0