چانے پینے وہی اک شور مچانے آتے
دوست بچھڑے ہوئے پھر ساتھ نبھانے اتے
چھت ٹپکتی ہے مری بارشوں کے موسم میں
ہم بھی رو لیتے اگر یار پرانے آتے
باقی کچھ بھی نہ بچا بیچ ہمارے رشتہ
گر کوئی ہوتا تعلق تو منانے آتے
زندگی سیج کہاں تھی یہ بچھے پھولوں کی
تھامتا ہاتھ جو کانٹوں سے چھڑانے آتے
وقت نے چھین لئے لمحےخوشی کے ورنہ
ہم تبسم لئے ہونٹوں پہ دکھانے آتے
میں کہیں سوکھے درختوں میں کھڑا ہوں تنہا
لوٹ کے تم ہی مجھے آگ لگانے آتے
ہم گئے ٹوٹ زمانے میں اکیلے شاہد
کاش مل کے ہمیں سب لوگ گرانے آتے

0
2