ڈوبتی ہے نبضِ دوراں ، کچھ کرو
شاعرو، دانش ورو، دیدہ ورو
گر نہیں مرہم ، نمک پاشی سہی
یہ تو کچھ مشکل نہیں؟ چارہ گرو
کچھ نہ کچھ نادان مل ہی جائیں گے
روز ہی اک بت تراشو ، آذرو
یہ سیاست کا لبادہ خوب ہے
بس یہی پہنے رہو ، فتنہ گرو
تم سے کیا ہوگا زمانے کا بھلا
ظلمت و اوہام کے پیغمبرو
یہ ہزیمت خوردگی اک ننگ ہے
کچھ تو دم دکھلاؤ ، میرے ہمسرو
اس سے بہتر اور موقع ہوگا کیا
کیونکہ وہ بیکس، ہے تنہا خنجرو

0
2