| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید |
| یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید |
| ہر سَمْت ہی بس ہے آہ و فُغاں، ڈوبا ہے غمِ فُرقت میں جہاں |
| ہر دل میں ہے اُن کا دردِ نہاں ، اشکوں سے بھری ہر آنکھ یہاں |
| دامن کو یوں اپنے بزم جہاں، سے موڑ چلے مولانا سعید |
| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید |
| یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید |
| اخلاق و ہنر کے محور تھے، وہ زہد و وَرَع کے پیکر تھے |
| وہ علم و عمل کے ممبر تھے، وہ دین کے داعی، رہبر تھے |
| جو دور تھے دیں سے ان کو خدا سے جوڑ چلے مولانا سعید |
| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید |
| یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید |
| ندوہ کی در و دیوار سبھی، آہ سوگ میں ہے بس ڈوبی ڈوبی |
| پھر مسندِ فن اک خالی ہوئی، یوں آج ہے محفل سونی سونی |
| دنیا کو منور کرکے حسیں اک گور چلے مولانا سعید |
| ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید |
| یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید |
معلومات