| سنو! لوگوں کی محفل میں |
| میں رہتا ہوں بہت تنہا |
| مگر جب جب تمہیں سوچوں |
| تمہارے پاس ہونے کا |
| مجھے احساس ہوتا ہے |
| میں تم سے بات کرتا ہوں |
| مسلسل بات ہوتی ہے۔ |
| کبھی کہتی ہو مشکل ہے |
| ہمارا ایک ہو پانا |
| کبھی کہتی ہو رب جانے |
| ہمارا حال کیا ہوگا۔ |
| میں کہتا ہوں کہ زندہ ہوں |
| رکھو مجھ پر یقیں کامل |
| نہ سوچو تم ابھی اتنا |
| جیو کھل کر حسیں لمحے |
| ابھی ہم ساتھ ہیں جاناں، |
| تمہاری مشکلوں کا حل |
| فقط میں ہی تو ہوں جاناں |
| تمہارے ساتھ ہوں ہر دم |
| یقیناً ایک ہوں گے ہم۔ |
| چلو چھوڑو بھی یہ باتیں |
| ذرا تم پاس آؤ نا |
| یہ خواہش ہے، ملاؤں میں |
| تمہارے لب سے لب اپنے |
| ذرا تم پاس آؤ نا۔ |
| تمہارے لمس کی خوشبو |
| مجھے محسوس ہوتی ہے |
| تمہارے دل کی دھڑکن کو |
| سدا محسوس کرتا ہوں۔ |
| تمہاری گود میں جب بھی |
| میں رکھ لیتا ہوں سر اپنا |
| یقیں جانو کہ میں اس پل |
| مکمل کھو سا جاتا ہوں۔ |
| مجھے بھی ڈر ستاتا ہے |
| تمہارے روٹھ جانے کا |
| تمہارے دور جانے کا |
| مگر یہ جانتا ہوں میں |
| تمہیں مجھ سے محبت ہے |
| کبھی یہ مر نہیں سکتی |
| کبھی یہ مٹ نہیں سکتی۔ |
| سنو! تم پاس ہو میرے |
| تمہیں میں دیکھ سکتا ہوں |
| تمہیں میں چھو بھی سکتا ہوں |
| تمہیں میں پا بھی سکتا ہوں۔ |
| خیالِ نظم سن کر تم |
| یقیناً مسکراؤ گی |
| سکوں مجھ کو بھی آئے گا |
| ملے گی پھر خوشی مجھ کو۔ |
| سنو اپنی نگاہوں سے |
| کبھی برسات مت کرنا |
| مجھے تکلیف ہوتی ہے |
| بہت تکلیف ہوتی ہے |
| کسک اٹھتی ہے سینے میں |
| اور آنکھیں نم بھی ہوتی ہیں۔ |
| تمہارے اشک کے موتی |
| مجھے بے چین کرتے ہیں |
| بہت بے چین کرتے ہیں |
| کبھی برسات مت کرنا۔ |
| تمہارے ساتھ ہوں ہر دم |
| کبھی برسات مت کرنا۔ |
| سنورنا بھول جاتا ہوں |
| چہکنا بھول جاتا ہوں |
| تمہارے بن مری سانسیں |
| بغاوت پر اترتی ہیں |
| چلی آؤ، چلی آؤ |
| ضروری ہو بہت مجھ کو۔ |
| میں کہتا ہوں زمانے سے |
| محبت ہے بہت تم سے |
| اگر تم لوٹ سکتی ہو |
| تو واپس لوٹ آؤ نا۔ |
| تمہیں محسوس کرتا ہوں |
| سدا محسوس کرتا ہوں |
| مجھے کھاتی ہیں اندر سے |
| مری تنہائیاں مجھ کو۔ |
| نہیں ہے اور کوئی بھی |
| مرے دل میں اتر کر جو |
| مرے مسکان کے پیچھے |
| مرے مغموم چہرے کو |
| ذرا دیکھے، ذرا سمجھے |
| لگائے مجھ کو سینے سے |
| فقط مجھ کو کہے اپنا۔ |
| نہیں کوئی بشر ایسا |
| جو تم سا ہو میسر اور |
| سکونِ قلب دے جائے |
| سنو، تم لوٹ آؤ نا |
| اگر تم لوٹ سکتی ہو۔ |
| نہیں ہو ساتھ میرے تم |
| شکایت ہے بہت تم سے |
| تمہارے کھوکھلے وعدے |
| محبت کے حسیں جملے |
| وہ جھوٹی فکر کرنا اور |
| مجھے آغوش میں لینا |
| تمہیں اب یاد بھی ہیں کیا؟ |
| تمہارے درد و غم میں میں |
| تمہارے ساتھ ہی تو تھا |
| مگر دیکھو ، مرے غم میں |
| نہیں ہو ساتھ میرے تم۔ |
| اگر خوش ہو تو پھر جاؤ |
| ہمیشہ خوش رہو جاناں۔ |
| کرم تم پر خدا کا ہو |
| رہو اس کے اماں میں تم |
| کبھی غم کے نہ بادل ہوں |
| تمہارے زیست میں جاناں۔ |
| نہیں تم سے گلہ مجھ کو، |
| نہیں تم سے گلہ مجھ کو |
| تمہیں بس یاد کرتا ہوں |
| مسلسل یاد کرتا ہوں۔ |
معلومات