کس سے جا کر میں کروں اپنی یہ فریاد، بتا
کیوں ستاتی ہے مجھے آ کے تری یاد، بتا
تری الفت کی تمنا تو کوئی جرم نہ تھا
کیوں ترے عشق میں دل ہو گیا برباد، بتا
تیری ہر بات ہوا کرتی تھی پتھر کی لکیر
کتنی مضبوط تھی الفت کی وہ بنیاد، بتا
ہو گئے گم کہاں اس باغ سے شاہین و عقاب
کیوں بہاروں میں بھی گل رہتے ہیں ناشاد، بتا
سن اے صیاد! چمن میں نہیں پہلی سی کشش
تو نے کیوں مجھ کو قفس سے کیا آزاد، بتا
مسکراہٹ پہ جہاں والے تھے نازاں جس کی
آج کیوں کر وہ کنولؔ ہو گیا ناشاد، بتا
بحر: رمل مثمن سالم مخبون محذوف
ارکان: فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن

0