| سُنا ہے دِلبری اُنؐ کی، دَوا ہے لادَواؤں کی |
| مَچی ہے دُھوم دُنیا میں، کَرم کی اِن اَداؤں کی |
| کوئی جن کا نہیں ہوتا، محمدؐ اُن کے ہوتے ہیں |
| وہؐ خود آکر ہی سُنتے ہیں، صدائیں بے نَواؤں کی |
| جہاں میں پیار کا مرکز، ہے میخانہ محمدؐ کا |
| یہیں خیرات بٹتی ہے، شفاؤں کی، عَطاؤں کی |
| کَرم کی اِنتہا دیکھو، کہ بَخشا خون حَمزہؓ کا |
| مِٹاتے ہیں وُہی کالَک، جَفاؤں کی، خَطاؤں کی |
| جہاں ذکرِ محمدؐ ہو وہیں رحمت اُترتی ہے |
| زباں ہو، یا کوئی دل ہو، یا محفل آشناؤں کی |
| نگاہیں سُرمگیں اُنؐ کی، اُترتی ہیں دِل و جاں میں |
| مُجھے بھی بخش دے مولا، ضِیا نُوری شُعاؤں کی |
| جسے چاہیں امامت دیں، ولایت دیں، کرامت دیں |
| مُجھے خدمت عطا کر دیں، مدینے کے گَداؤں کی |
| میں منگتا اُنؐ کی قُربت کا، مَودّت کا، مُحبت کا |
| مُجھے توفیق دے مولا محبت میں وَفاؤں کی |
| تمنّا بس یہ میری ہے، کہ خاکِ پا ہی بن جاؤں |
| نہیں حسرت مِرے دل میں، عَماموں کی، قَباؤں کی |
| وہؐ مُجھ کو یاد کرتے ہیں، تو لکھتا ہوں ثَنا اُنؐ کی |
| وَگرنہ مُجھ سے عاصی کو، کہاں ہمّت ثَناؤں کی |
| بُلا کر مُجھ کو مَحشر میں، بتایا ہے زمانے کو |
| کہ وہ پہچان رکھتے ہیں، غُلاموں کی، گَداؤں کی |
معلومات