| حرفِ حق کہنے میں سہنے پڑے خنجر کتنے |
| ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے منظر کتنے |
| یوں تو دریا میں اترتے ہیں شناور کتنے |
| باہر آتے ہیں لئے ہاتھ میں گوہر کتنے |
| جن کے سینوں میں فقط ذکرِ اَحد گونجا تھا |
| اُن کے سینوں میں اتارے گئے خنجر کتنے |
| جب سے موسم نے خموشی کی ردا اوڑھی ہے |
| چپ سے رہتے ہیں پرندے مرے اندر کتنے |
| میں نے حق بات کہی مصلحتوں سے نہ ڈرا |
| ریزے ریزے ہوئے سر پر مرے پتھر کتنے |
| یوں تو ہر سمت نظر آتے ہیں اونچے شانے |
| دیکھنا یہ ہے کہ ان شانوں پہ ہیں سر کتنے |
معلومات