ہر مَرَض کی شِفا حضور سے ہے
دردِ دل کی دوا حضور سے ہے
لا مکاں کا نشاں نبی اکرم
لا پتہ کا پتا حضور سے ہے
ذکر سرکار کا سکونِ دل
دل کا عہدِ وفا حضور سے ہے
جو نبی پر مرا وہ زندہ ہُوا
اس فنا میں بقا حضور سے ہے
نیک لوگوں میں جو ہیں لوگ ذکیؔ
سب کو جو کچھ ملا حضور سے ہے

0
2