ہر سمت جہاں بھر میں صرف ان کی بڑائی ہے
ان ہی کے لیے رب نے کائنات بنائی ہے
خود رب نے پکارا ہے یٰسین کبھی طٰہٰ
خود رب نے یوں آقا کی کیا شان بڑھائی ہے
جاتے ہیں مدینے میں جو لوگ زیارت کو
ان لوگوں نے کیا واللّٰہ قسمت پائی ہے
دل تڑپے زیارت کو، روح بے چین ہو جائے
ہم درد کے ماروں کی طیبہ ہی دوائی ہے
آقا نے غلاموں کو جو محشر میں پکارا
لو تب تو غلاموں کی پھر بات بن آئی ہے
طاہرؔ کے لیے تو یہ بس اتنا ہی کافی ہے
آقا نے عنایت سے یہ نعت لکھائی ہے

0
1