| تضمین: جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث |
| در شان حضور غوث الاغواث قطب الاقطاب سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ |
| :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: |
| جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث |
| تری جانب ہی وہ مائل ہے یا غوث |
| ترے بِن وہ کہاں قابل ہے یا غوث |
| بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث |
| تِرے ہی در سے مُسْتَکْمِل ہے یا غوث |
| جو تیرے فیض سے عاطِل ہے یا غوث |
| نہیں عالی ، وہ تو سافِل ہے یاغوث |
| کمینوں میں ہاں وہ شامِل ہے یا غوث |
| جو تیری یاد سے ذاہِِل ہے یا غوث |
| وہ ذِکرُ اللہ سے غافِل ہے یا غوث |
| جو تیری شان سے غافِل ہے یاغوث |
| کہاں وہ حِزْب کا عامِل ہے یا غوث |
| برے انجام کا حامِل ہے یا غوث |
| اَنَا السًَیَّاف سے جاہِل ہے یا غوث |
| جو تیرے فضل پر صائِل ہے یاغوث |
| کہیں اَقطاب سارے تجھ کو مَولیٰ |
| ولی ہیں اَزْکِیا ،تو سب سے اَزْکیٰ |
| ہیں اور بھی متقی تو روحِ تقویٰ |
| سخن ہیں اَصْفِیا تو مغزِ معنیٰ |
| بدن ہیں اولیاء تو دِل ہے یا غوث |
| سبھی بینا ہیں گر، اے جاں تَو تُو آنکھ |
| بدن گر اَہْلِ اِحْساں ہیں تَو تُو آنکھ |
| اگر وہ عام اَعضا ہیں تَو تُو آنکھ |
| اگر وہ جسمِ عِرْفاں ہیں تَو تُو آنکھ |
| اگر وہ آنکھ ہیں تو تِل ہے یا غوث |
| نبی کے نور سے روشن ہوا تو |
| علی کے فیض سے غالب رہا تو |
| حسن کا لاڈلا بیٹا بنا تو |
| الوہیت نبوت کے سوا تو |
| تمام اَفضال کا قابِل ہے یاغوث |
| خدا کے فَضْل سے ہے یہ سِیَادت |
| ولی بھی مانتے ہیں یہ قِیَادت |
| ملی ہے تجھ کو غوثوں کی اِمَامَت |
| نبی کے قدموں پر ہے جز نبوت |
| کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یا غوث |
| خدا دے شانِ اَحْمَد میں گواہی |
| مَلَک سارے کریں در کی گدائی |
| سبھی مخلوق پر ہے عام شاہی |
| اُلوہیت ہی اَحْمَد نے نہ پائی |
| نبوت ہی سے تو عاطل ہے یا غوث |
| ہے اونچی خّلْق میں شانِ رسالت |
| ہے اس کے بعد پھر شانِ نبوت |
| نہیں ہے کوئی اس جیسی فضیلت |
| صحابیت ہوئی پھر تابِعِیَّتْ |
| بس آگے قادِری مَنْزِل ہے یا غوث |
| زمانے میں نہ تجھ سا کوئی سُلطاں |
| ولی بھی تیری چوکھٹ پر ہیں دّرباں |
| خدا ٹالے قضا ، جب ہو تو نازاں |
| ہزاروں تابعی سے تو فُزُوں ہاں |
| وہ طبقہ مجملاً فاضل ہے یا غوث |
| کروڑوں اولیاء سے تو فُزُوں ہے |
| ترا منکر یہ سن کر کیوں زَبُوں ہے |
| حسد سے ہی اسے دَردِ دَرُوں ہے |
| ہزاروں تابعی سے تو فُزُوں ہے |
| وہ طبقہ مجملاً فاضِل ہے یا غوث |
| ترے ہر سانس سے جلتا ہے شیطان |
| ترے ہر درس سے ملتا ہے ایمان |
| ترے دم سے سجا اَیْوَانِ ایقان |
| رہا میدان و شہرستانِ عِرْفان |
| ترا رمنا تری مّحفِل ہے یاغوث |
| ولی جو شاذلی ہے یا فریدی |
| جو بھی ہے صابری چاہے نظامی |
| کسی بھی سلسلے سے ہے وہ نامی |
| یہ چشتی سہروردی نقشبندی |
| ہر اک تیری طرف مائِِل ہے یاغوث |
| ترے بَردے ہیں ، تیرے در کے کامی |
| ترے نغمے ہیں گاتے سارے والی |
| ولی کہتے ہیں تجھ کو خود سے عالی |
| تری چڑیاں ہیں تیرا دانہ پانی |
| ترا میلہ تری مّحْفِل ہے یاغوث |
| کہاں تیرے فضائل کی ہے تحدید |
| نہ ہو ہم سے تری مدحت کی تمہید |
| سلاسل میں تری عظمت کی تاکید |
| انہیں تو قادری بیعت ہے تجدید |
| وہ ہاں خاطی جو مُسْتَبْدِل ہے یاغوث |
| ترے صدقے سے چلتی ہے مری نَبْض |
| ترے احسان کا ہے شکر تَو فَرْض |
| کروں گا ہر کَرَم پر بس یہی عَرْض |
| قمر پر جیسے خور کا یوں ترا قَرْض |
| سب اہلِ نور پر فاضِل ہے یا غوث |
| جہاں بھر کے خزانوں پر تو قابِض |
| تجھی سے مانگوں ، ہو جب فَقْر عارِض |
| مجھے دے قَرْض تو، جلتا ہے مُبٔغِض |
| غلط کردم تو واہِب ہے ، نہ مُقْرِض |
| تری بخشش ترا نائل ہے یا غوث |
| خَضِرْ بھی سنتا ہے تیرا تو خُطْبہ |
| بَدَل بھی تکتے ہیں تیرا تو رَستہ |
| گدائی بھی تری ہے اعلیٰ تَمْغہ |
| کوئی کیا جانے تیرے سر کا رتبہ |
| کہ تلوا تاجِ اہلِ دل ہے یا غوث |
| مَشَائِخ تو کریں قدموں کی تَقْبیل |
| نہ ڈھونڈیں نَقْص کی وہ کوئی تعلیل |
| جو لائے نَقْص ، اس پر حُکْمِ تضلیل |
| مَشَائِخ میں کسی کی تجھ پہ تفضیل |
| بحکمِ اولیاء باطِل ہے یا غوث |
| زمانے پر عّیاں تیری کرامات |
| مخالِف بکتا ہے باطِل خرافات |
| حقیقت میں ہیں وہ جھوٹی حکایات |
| جہاں دشوار ہو وہمِ مساوات |
| یہ جرات کس قدر ہائل ہے یا غوث |
| ہیں عقل و فہم سے بالا مقامات |
| اجازت سے تری چلتے ہیں دن رات |
| بیاں کیسے کروں تیری کرامات |
| ترے خُدَّام کے آگے ہے اک بات |
| جو اور اَقٔطاب کو مُشْکِل ہے یا غوث |
| سدا خوش حضرتِ قادر ہے تجھ سے |
| خدا کی شان بھی ظاہر ہے تجھ سے |
| مگر مُدْبِرْ رہا قاصر ہے تجھ سے |
| اسے اِدبار جو مُدْبِرْ ہے تجھ سے |
| وہ ذی اِقبال جو مُقْبِل ہے یا غوث |
| یہی سنتے ہیں اہلِ دل سے منقول |
| کہ ہے نسبت تری محبوب و مقبول |
| ہے وہ رسوا ،ہوا جو تجھ سے معدول |
| خدا کے در سے ہے مطرود و مخذول |
| جو تیرا تارک و خاذل ہے یا غوث |
| بڑی قسمت ہے تیرے قادری کی |
| کلی کھِلتی ہے تجھ سے صابری کی |
| جڑی نسبت ہے تجھ سے شاذلی کی |
| ستم کوری وہابی رافضی کی |
| کہ ہندو تک ترا قائل ہے یا غوث |
| وہ کیا سمجھے گا راہِ اولیا کو |
| وہ کیا پائے گا رازِ اصفیا کو |
| وہ کیا مانے گا شانِ مصطفیٰ کو |
| وہ کیا جانے گا فضلِ مرتضیٰ کو |
| جو تیرے فضل کا جاہل ہے یا غوث |
| کہے رضوی رضا سی تاب کس میں ؟ |
| دکھاؤ ایسا ہے سیماب کس میں ؟ |
| سَخُنْ ایسا کہاں ؟ آداب کس میں ؟ |
| رضا کے سامنے کی تاب کس میں ؟ |
| فلک وار اس پہ تیرا ظل ہے یا غوث |
| تضمین نگار: ابو الحسنین محمد فضلِ رسول چشتی رضوی |
| شبِ منگل 11 ربیع الاول شریف 1448 ھ |
| /24 اگست 2026ء |
| پیر شام دس بج کر ترپن منٹ |
معلومات