جلوے کچھ ہوش رُبا زیرِ قبا رہتے ہیں
ہم مگر صورت و سیرت پہ فدا رہتے ہیں
خوشیوں کے جگنو پکڑنے میں سدا رہتے ہیں
پھر بھی کچھ اپنے بدستور خفا رہتے ہیں
توڑ کر دل وہ جفا سے جو خفا رہتے ہیں
کتنے ہنگامے دل و جاں میں بپا رہتے ہیں
زخمی دل چھلنی جگر آبلہ پا رہتے ہیں
عشق میں تیرے مگر نغمہ سرا رہتے ہیں
شوقِ دلبر ہے کہ ہم الجھے رہیں گرہوں سے
باندھ کر سختی سے وہ بندِ قبا رہتے ہیں
جیتے جی تجھ سے جدا ہم نہ رہیں گے ہر گز
کیا کبھی گوشت سے ناخن بھی جدا رہتے ہیں
اب فقط مکرو ریا جوروجفا ہے ہر سو
اب کہاں لوگ جو پابندِ وفا رہتے ہیں
کیسے پھر سچا خدا دل میں ترے اترے سحاب
دل کی دنیا میں کئی جھوٹے خدا رہتے ہیں۔

74