| بہت کام آئے تھے طلبا ہمارے |
| لگائی تھی طُوفاں میں کشتی کنارے |
| تمھارے بنا تو اُدُھورا ہی رہتا |
| یہ منظر سُہانا کبھی بھی نہ سجتا |
| مُشقّت بھی جھیلی جتن بھی اُٹھائے |
| سبھی تم نے وعدے وفا کے نبھائے |
| جو دیکھا یہ جذبہ، مِلی دِل کو راحت |
| مِثالی ہے سب سے تمھاری اِطاعت |
| بُھلائی نہ جائے گی خدمت تمھاری |
| تمھارے ہی چرچے زباں پر ہیں جاری |
| صِلہ تُم کو دے گا وہ دونوں جہاں میں |
| مراتب کرے گا عطا وہ جِناں میں |
| کبھی اپنا مقصد نہ ہر گز بُھلانا |
| صدا یاد رکھنا وہ وعدہ پُرانا |
| چُنا ہے خُدا نے تمھیں میرے بھائی |
| کرو علم سے اپنے روشن خُدائی |
| قیامت کے دن جب کرو تُم شفاعت |
| تو لے جانا زیرکؔ کو تُم ساتھ جنّت |
معلومات