جو بہروپ ساتھی تھے شام و سویرے
چلے کر کے تنہا مجھے یار میرے
انہیں ہوگئی چل کر آنے سے نفرت
وہ جب پھول راہوں پہ ہم نے بکھیرے
نہ جینے دیا چھین لی ساری خوشیاں
ملے زندگی میں بہت سے لٹیرے
یہ یادیں معطر ہیں تیری مہک سے
خیالوں میں ہر سو ترے ہیں بسیرے
کہیں ڈال کر چل دیئے مجھ کو حامی
جہاں ہر طرف ہم سفر ہیں اندھیرے

0
3