جہاز سمجھے گئے بے مثال کا ملبہ
پڑا ہے بیچ سمندر زوال کا ملبہ
کہا بھی تھا کہ نہ کر باغبان کوتاہی
سمیٹ اپنے گل پائمال کا ملبہ
مرے جواب کی برداشت کر سکا نہیں ضرب
ہٹاؤ بزم سے اپنے سوال کا ملبہ
ہمارے دوست عمارت بنائے بیٹھے ہیں
چرا چرا کے ہمارے خیال کا ملبہ
محلِ حسن پہ آفت پڑی محبت کی
سجائے پھرتا ہے اپنے جمال کا ملبہ
نقوش کرتی گئی منہدم ہوائے وقت
بچا ہوا ہے فقط خد و خال کا ملبہ
بکھر نہ جائے کسی انتہا کی سرحد پر
سنبھال اپنے قمر اعتدال کا ملبہ
قمرآسیؔ

0