خدا کی رِضا میں ہی دل شاد رکھنا
خودی کو زمانے سے آزاد رکھنا
فقیری میں بھی سر جھکانا نہیں ہے
کہ دل میں خودی کو ہی شہزاد رکھنا
بگڑ جائے دنیا تَو پرواہ نہ کرنا
لہو میں وفا کو ہی فولاد رکھنا
زمانہ رُلائے تو رونا نہیں ہے
مگر دل کا آنگن تو آباد رکھنا
کہانی سبھی کی الگ ہیں یہاں پر
تو اپنی الگ سب سے روداد رکھنا
یہی ہے عبادت یہی بندگی ہے
زباں پر سدا حق کی بنیاد رکھنا
سُخَنْ جب زُباں سے نکل جائے اک بار
تو اُس اِک سُخَنْ کی ہی میعاد رکھنا
وفا جھوٹ سے جیت پاتی نہیں ہے
ہَرِ اکْ بات میں سچی اَسناد رکھنا
زمانے سے شِکوہ نہ کرنا منور
خدا سے ہی ہر ایْکْ فریاد رکھنا

41