کوئی خواب ٹوٹا کوئی ساتھ چھوٹا تو میں چپ رہا
کوئی آہ نکلی کوئی آنسو نکلا تو میں چپ رہا
/
وگرنہ قیامت بپا تھی شبِ ہجر میں جب کبھی
تری یاد آئی ترا دھیان آیا تو میں چپ رہا
/
کئی مدتوں بعد اس دشتِ خواہش میں جب پھر کبھی
کوئی ابر برسا کوئی جسم ترسا تو میں چپ رہا
/
وہ جس کھڑکی پہ پہلے بھی پنچھی چہکے تھے دل دھڑکا تھا
پھر اس دل کی کھڑکی پہ جب پنچھی چہکا تو میں چپ رہا
/
یں کیسے بتاتا کہ تو میرا کیا ہے میں کیا ہوں ترا
کسی نے ترے بارے میں جب بھی پوچھا تو میں چپ رہا
/
میں بے جان و بے حس سمندر کو تکتا رہا دیر تک
سرِ شام کوئی ستارا جو ڈوبا تو میں چپ رہا
/
یہ میرا جنوں تھا کہ شوق شہادت مرا کیا خبر
جب اس نے مرے دل میں خنجر اتارا تو میں چپ رہا
/
وہ جب ایک دم اترا تھا دل میں کچھ حشر سا تھا بپا
وہ آہستہ آہستہ جب دل سے اترا تو میں چپ رہا

0
16