خدا کے فضل سے دیکھو حسیں لمحے یہ آ ئے ہیں
کہ جیسے مدرسے میں چاند تارے جگمگائے ہیں
سبھی چہروں پہ چھائی ہے خوشی مہماں کی آمد سے
فضائیں مہکی مہکی ہیں عجب سے نور چھائے ہیں
ہمارے حضرتِ فاروق ہیں عالم، بڑے صالح
خلوص و مہر کی خوشبو وہ اپنے ساتھ لائے ہیں
خطابت سے جلائے شمع وہ انگلینڈ میں جا کر
نہ جانے تشنگاں کتنے انہی سے فیض پائے ہیں
لگے ہیں دین کے کاموں میں آ ئر لینڈ میں رہ کر
جناب مصطفی نے علم کے دریا بہائے ہیں
صبیح اختر ہمارے شیخ بھی تشریف لائے ہیں
حدیث پاک کے انوار سینوں میں جگائے ہیں
تقیؔ کو ناز ہے کتنا، بتائے کس طرح تم کو
کہ ان کی دید نے کیا چین کے منظر دکھائے ہیں

0
2