گھٹائیں ٹوٹ کر برسی ہیں اب کی بار ساون میں
کسی کی زلف سے مہکی فضائیں آج گلشن میں
چراغِ آرزو روشن تو ہے لیکن دھواں سا ہے
عجب سی تیرگی پھیلی ہوئی ہے دل کے آنگن میں
کبھی خاموشیوں کا شور تنہائی میں اٹھتا ہے
کبھی لگتا ہے کوئی بولتا ہے دل کی دھڑکن میں
کہیں ایسا نہ ہو یادوں کے جگنو ماند پڑ جائیں
یہ بڑھتی تیرگی اکثر مجھے رکھتی ہے الجھن میں
میں جس کو بھول جانے کی دعا ہر روز کرتا ہوں
وہی چہرہ ابھر آتا ہے جب دیکھوں میں درپن میں
کبھی آنسو، کبھی آہیں، کبھی بیتابیِ دھڑکن
یہی سرمایہ باقی رہ گیا الفت کے دامن میں
کنول کیسے بیاں کردوں دلِ مضطر کی بے چینی
سمندر قید ہو جیسے کسی چھوٹے سے برتن میں

0
8