| تضمین نمبر 16 |
| تضمین:- گُزْرے جِس رَاہ سے وہ سَیِّدِ وَالا ہو کر |
| کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز |
| -------------------------------------- |
| آئے کِس شَان سے وہ رُوحِ مُعَرَّا ہوکر |
| چَمْکے ہر دور میں وہ شَمْسِ مُجَلّٰی ہو کر |
| سب سے ذِیشان ہوئے عَرْشِ مُعَلّٰی ہو کر |
| گُزْرے جِس رَاہ سے وہ سَیِّدِ وَالا ہو کر |
| رہ گئی ساری زَمیں عَنْبَرِ سَارا ہو کر |
| رِفْعَتِ شان کہاں ایسی بَشَر نے دیکھی |
| بے مِثْل شان تو اَوقاتِ دَہَر نے دیکھی |
| آمدِ نُور کہاں ایسی سَحَر نے دیکھی |
| رُخِ اَنور کی تَجَلِّی جو قَمَر نے دیکھی |
| رَہْ گیا بوسہ دِہِ نقشِ کَفِ پَا ہو کر |
| ہائے کَوتاہِیِٔ ہِمِّتْ کہ میں پھر اَبْ کی بَرَسْ |
| ہائے اَعْمَال کی شَامَتْ کہ میں پھر اَبْ کی بَرَسْ |
| ہائے کیسی ہے یہ وَحْشَتْ کہ میں پھر اَبْ کی بَرَسْ |
| وَائے مَحٔرُومِیِ قِسْمَتْ کہ میں پھر اَبْ کی بَرَسْ |
| رَۂ گیا ہَمْرَہِ زَوَّارِ مَدِیْنَہ ہو کر |
| رُخْصَتِ قَافِلَہ سُن کر پَڑی آنکھیں بھی بَرَسْ |
| ہو گیا میں تو یہاں پھر سے گِرِفْتارِ قَفَس |
| کاش دیکھوں میں بھی روضے پہ سَجا ہے جو کَلَسْ |
| وَائے مَحٔرُومِیِ قِسْمَتْ کہ میں پھر اَبْ کی بَرَسْ |
| رَۂ گیا ہَمْرَہِ زَوّارِ مَدِینَہ ہو کر |
| دَشْتِ طَیْبَہ ہے نَبی کے قَدَمُوں کا رَسْتَہ |
| نامِ طَیْبَہ سے غریبوں کے دِلوں کا رِشْتَہ |
| اَرْضِ طَیْبَہ تو ہے دُنیا میں بَہِشْتی ٹُکڑا |
| چَمَنِ طَیْبَہ ہے وہ بَاغ کہ مُرْغِ سِدْرہ |
| بَرْسوں چَہْکے ہیں جَہاں بُلْبُلِ شَیدَا ہو کر |
| بَاعثِ خَلْقِ جَہاں کا ہے وَہاں پر رَوضہ |
| مُجْرِمُوں کے لیے ہے رَب کی رضا کا رَسْتَہ |
| اور وہاں آ پَڑے رَہتے ہیں سَدا دِل خَسْتَہ |
| چَمَنِ طَیْبَہ ہے وہ بَاغ کہ مُرْغِ سِدْرہ |
| بَرْسوں چَہْکے ہیں جَہاں بُلْبُلِ شَیدَا ہو کر |
| حُوریں بھی چَاہتی ہیں جِس کو وُہی تو ہے بِلال |
| حُسْنِ شَہ سے مِلی بھیک تو خُوش ہے یہ ہِلال |
| نَقْشِ اَغْیار مِٹے جَب سے مِلا نَقْشِ نِعَال |
| صَرْصَرِ دَشْتِ مَدِینَہ کا مَگَر آیا خَیَال |
| رَشْکِ گُلْشَن جو بَنا غُنْچۂ دِلْ وَا ہو کر |
| دَسْتِ شَہ کہتے ہیں ہر آن عَطَا کو ہَم ہیں |
| چَشْم شَہ کہتی ہیں اَب پاس نِگَہ کو ہَم ہیں |
| شَاہ خُود ہی تو کہیں ، روزِ جَزا کو ہَم ہیں |
| گوشِ شَہ کہتے ہیں فَرْیاد رَسی کو ہَم ہیں |
| وَعدَۂِ چَشْم ہے بَخشائیں گے گویا ہو کر |
| حَشْر میں آئے شِفاعت کے لیے ماہِ عَرَب |
| بھول جائیں خُوشی سے پھر تو ہمیں رَنج و کَرَب |
| پھر فَرِشْتے بھی کہیں بَچ گئے ہیں اب یہ بَرَب |
| پائے شَہ پر گِرے یارب تَپْشِ مِہْر سے جَب |
| دِلِ بے تاب اُڑے حَشْر میں پارا ہو کر |
| ہے یہ اُمَّید گَدا کو تِری چَوکھٹ سے شَہا |
| مُنْتَظِر ہے کہ مِلے حِصَّہ شِفاعت سے شَہا |
| اور ہو رضوی بَری تیری عِنایت سے شَہا |
| ہے یہ اُمَّید رضاؔ کو تِری رَحمت سے شَہا |
| نہ ہو زِندانیِ دوزخ تِرا بَندہ ہو کر |
| ------------------------------------ |
| تضمین نگار:- ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی |
| 25 ربیع الاول شریف 1448 ھ |
| / 7 ستمبر 2026 ء |
| بروز پیر کی شام |
| شب 7 بج کر 47 منٹ پر |
معلومات