حافظ معاذ عالم کے نام یہ پیاری سی دعا
خدایا میسر ہو چشمِ بصیرت
کہ پائے مری ذات نورِ بصیرت
خودی کو مری کر دے اتنا توانا
کہ ٹھکرا سکے یہ طلسمِ زمانہ
لبوں پر مری ہو صدائے صداقت
مرا حرفِ حق ہو نشانِ سعادت
محبت کی شمعیں جلاتا رہوں میں
بچھڑتے ہوؤں کو ملاتا رہوں میں
غمِ فقر دے کر غنی کر دے مجھ کو
متاعِ دلِ مرتضیٰ دے دے مجھ کو
بنا دے مری خاک کو کیمیا تو
عطا کر مجھے سوزِ کرب و بلا تو
مری خاک میں سوزِ عشقِ خدا ہو
مرے حرفِ حق میں وہی رہنما ہو

8